• sazaidi_abr 16w

    آئینہ دیکھ کر...

    آئینہ دیکھ کر مسکراتے ہونگے

    جب  یاد  انھیں  ہم  آتے ہونگے


    ہلکی ہلکی سی تشنگی بھڑتی  ہوگی

    ساگر دیکھ کر جام جھلکاتے ہونگے


    آنکھیں تو ہیں ہی جھیل کے جیسی

    لوگ کتنے ہی ڈوب جاتے ہونگے


    کتنے جلوے ہیں تیرے ان آنکھوں میں

    کیا کیا  نہ  خواب  انہیں  آتے  ہونگے


    چاند سے بس پوچھا تھا  اتنا

    وہ کب رات میں آتے ہونگے


    میرے سوالوں پہ سوال کرتے ہیں

    انتے سوال کہاں سے لاتے ہونگے


    ایک  دیہ  ہوا  کی  زد پہ رکھ کر

    آندھیوں سے اسے لڑاتے ہونگے


    بچنا  چاھتے  ہو  تو باھر نکلو

    وہ بستیاں ابھی جلاتے ہونگے


    مفلسی  انہیں  مار   ہی   نہ  ڈالے

    جو فاقہ کر کے کام چلاتے ہونگے


    ساحل پہ بیٹھ کر ننھے  بچے

    ریت سے گھر بناتے ہونگے


    پیاس تو ان ہونٹوں میں بھی ہے

    جو تیری پیاس بہجا تے ہونگے


    فقط کہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا

    وہ وقت پہ کام بھی آتے ہونگے؟


    جانے     والے     جاتا     جا    مگر  سن

    تیرے چاہنے والے جان سے جاتے ہونگے


    ایک وعدہ ہے لوٹ آنے کا

    وہ وعدہ اپنا نبھاتے ہونگے


    کشتیاں  ساحل پر  جلا کر  اپنی

    اس پار وہ کیسے جاتے ہونگے


    سو گئے  چین کی  نیند سبھی لوگ

    اسکو میرے خواب جگاتے ہونگے


    میں،   آبر،   رات   اور    تنہائی

    سب مل کر اشک برساتے ہونگے!


    ©sazaidi_abr