• sarfrosh 15w

    خوب مجہ پہ ہسا کرتے تھے دوست
    کیا کیا ستم مجہ پہ نہیں کرتے تھے دوست

    کبھی روک لیتے تھے ہوایں ۔غم۔و۔أزار کی
    کبھی اپنو سے بگھڑتے تھے میرے لیے دوست

    غم۔یار کو ہم بلہادیتے مگر کیسے
    چار دن کی زیندگی میں راتیں بھی تھی دوست

    نہ پوچھ دشت۔و۔جبل میں کیا کرتے تھے
    کبھی شا کبھی گدا گر بن کے چلا کرتے دوست

    کفن اور چادر ایک سی دیکھتی ہے
    میر وطن میں ظلم کی یہ انتا ہے دوست

    چار۔سو اور موت کا قبزہ ہے
    زیندگی ایک فاسی کا تختا نہیں دوست