• danishjamani 3w

    اُسے یاد میں نہ آیا۔
    اس کا مجھ پر جادُو کچھ اس طرح سے چھایا،
    شاید رب نے اُسے، میرے لئے بنایا۔
    سب کچھ سُنا اُس سے، مگر کچھ نہیں سُنایا،
    وہی سب دیکھا میں نے، جو اس نے دکھایا۔
    کھا کھا کر قسمیں میں نے، اِس اِس طرح بتایا،
    میرا دل صَنم تُو نے، کس کس طرح چُرایا۔
    تلخ یادیں تھیں کچھ اس کی، جس نے اُس کو ستایا،
    دوستی کی خاطر اُس کو، ہم نے جینا سکھایا۔
    سارا نے کہا اُس سے، کہ تُو سارا کچھ بھول جا،
    دانش نے کہا اُس سے، کہ تُو دانش مند ہوجا۔
    تُو بھی بُھلا دے اُس کو، جس نے تجھ کو بھلایا،
    مت ترپ اس کی خاطر، جس نے تجھ کو ترپایا۔
    مگر آج بھی اُس کو، وہی شخص یاد آیا،
    اُس نے میرا پیار، کچھ اس طرح بُھلایا۔
    دو پل میں کیا اس نے، مجھے اس طرح پرایا،
    اُسے یاد وہ تو آیا، اُسے یاد میں نہ آیا۔

    ©danishjamani

    Read More

    اُسے یاد میں نہ آیا۔