• firdousiqbal 10w

    اٹل حقیقت

    ایک شام ایسی تھی کہ سارے شہر میں سناٹا تھا, خوف و حراس چھایا ہوا تھا - طوفان سے پہلے والا فضا تھا - اتنے میں میرے فون کی آخری دیدار والی گھنٹی بج گی. میں گھبرا گیا -طرح طرح کے خیلات اُبھرنے لگنے لگے. خیر میں نے ریسیور اُٹھایا تو دوسری طرف سے ایک پریشان سی آواز سننے کو آئ "صاحب سنا کہ شہر پر کوئ بھلا آنے والی ہے -شہر و دیہہ مقفل کر دیے گے ہیں. شہر بندنے شہر خموشاں کیا ہے. شہر خبراں بھی بے سود ہے" فون کٹ گیا. سارے شہر کی بتیاں گُھل ہو گیں-اتنے میں اِنشاء جی کی ایک غذل. اِنشاء جی اب کوچ کرو اب اس شہر میں دل کا لگانا کیا, یاد آئ.

    یمین و یسیار میں بے خوابی, بے زبانی, بدحواسی, بے قیاسی, بے وطنی, بے وقت کی راگنی گانے اور بے وقت کی شہنائ بجانے کے مترادف سماں تھا. حکمرانی کے مزے لوٹنے والے ارباب کی حالتِ بیزاری انکی آختہ کردہ استطاعت سے عیاں تھی-

    فطرطً میں ایک محرکت لاارا قسم کا ایک شخص ہوں مگر ایسی حالات بیاباں میں میرے قدم بھی جیسے تھم سے گئے. گپڑ چوتھ ماحول میں گُپھا میں بیٹھنے کا سماں عیاں تھا. ہر ایک کو بیابان مَرگی کا احساس ہونے لگا تھا میں سوچنے لگا کہ کیا میری ذندگی کا محور صرف یہی ہو کر رہ گیا. بسیار غور و فکر کے بعد میں بس اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک اٹل حقیقت ہی تو ہے.
    (فردوس اقبال)
    ©firdousiqbal