• shoaibmehmood 24w

    بوڑھی راتیں

    کئی صدیوں سے راتیں
    بے چاری بُوڑھی، لا چار کمزور راتیں
    دِنوں کی سب تھکن،
    اپنے ضعیف العمر کاندھوں پہ
    اُٹھاتی آ رہی ہیں، مسکراتی جا رہی ہیں
    لوریاں ہی گا رہی تھیں اور گاتی جا رہی ہیں
    بے چاری لاکھوں صدیوں سے چلی ہیں
    تھکن پہلو میں دابے کئی چھالے لئے
    یہ آ رہی ہیں
    اور دِن۔۔۔۔
    دِن ہر روز نئے جذبے سے اُٹھتا ہے
    تھکن کو رات کے بِستر پہ چھوڑے مسکراتا ہے
    مگر پھر شام بستر پر
    اوندھے منہ ہی اکثر لیٹ جاتا ہے۔

    ©شعیب