• farhanwrites61 10w

    اسلامی تاریخ بے شمار، سرفروش، جانباز، مدبر حکمران، اسلام کے پاسبان، اللہ کی وحدانیت و ربوبیت کا کفر کے ایوانوں میں نقارہ بلند کرتے ، اور مظلوم مسلم بہنوں کی پکار پر لبیک کہتے سپہ سالاروں اور کمانڈروں سے مرتب ہے.
    ہر حکمران، کمانڈر یا جرنیل اپنے لہو سے، اپنی قربانیوں اور انتھک جدوجہد سے اسلام اور اسلامی سلطنت کی آبیاری کرتا رہا. مسلم امہ کی آواز بنا رہا ہے.
    ایسا ہی ایک حکمران، سپہ سالار اور جرنیل جن کو تاریخ سلطان محمود غزنوی کے نام سے جانتی ہے. انکا پورا نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے ۔
    سلطان محمودغزنوی 971 ء میں پیدا ہوا۔ چھ برس کے تھے کہ انکے باپ غزنی کا بادشاہ بنے۔ پندرہ سال کی عمر میں باپ کے ساتھ جنگوں میں شریک ہونے لگے اور ان کی بہادری، جانبازی، دلیری اور جرات کے چرچے ہونے لگے.
    چنانچہ آپ کے باپ سبکتگین نے ان کو خراسان کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔ تعلیم نہایت عمدہ پائی ، فقہ، حدیث، تفسیر کی کتابیں پڑھیں، قرآن مجید حفظ کیا۔ ابتدائی عمر میں فقہ پر خود ایک کتاب بھی لکھی.
    شمالی ہند کا راجا جے پال سبکتگین کے زمانے میں دو دفعہ غزنی پر حملہ کرچکا تھا، جب سلطان محمود چھبیس سال کی عمر میں باپ کا جانشین ہوئے تو جے پال نے تیسری دفعہ حملہ کردیا۔ سلطان محمود نے اس کو سخت شکست دی اور گرفتار کرلیا۔ راجا نے بڑے وعدے وعید کرکے رہائی حاصل کی۔محمود غزنوی ایک سپہ سالار اور فاتح کی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ علم و فن کی سرپرستی کے اعتبار سے بے نظیر حکمران تھے۔ بڑے بڑے عالم اور شاعر ان کے دربار میں موجود تھے۔ فردوسی کی سرپرستی کرکے انہوں نے شاہنامے کی تکمیل کرائی۔ غزنی میں بڑے بڑے مدرسے قائم کیے۔ اہل علم کی امداد پر لاکھوں روپیہ سالانہ صرف کرتے ۔ وہ نہایت نیک دل مسلمان تھے ۔ #poetry #thoughts #diary

    Read More

    Sultan mahmood gaznavi