• nallatareen 10w

    @ukwrites96 kash ham bhi aisa likh paate

    Read More

    غزل

    خوشی کے مارے مری جان نکل رہی تھی
    جب جان سے، جان پہچان نکل رہی تھی
    میں نے اسکے لیئے اپنی جان داؤ پہ لگائ
    کیونکہ وہ اکیلے ہی بیابان نکل رہی تھی
    میں کوئی دیوانہ نہیں جو پیچھا کرتا ہوں
    اصل میں گھر سے پریشان نکل رہی تھی
    کیا گزری ہوگی مرے دل پر اس شب جب
    اُسکی ڈولی گلی سےعلى العلان نکل رہی تھی
    یوں تو بہت سے رستے جاتے تھے اُسکے گھر
    ہم اس پر چلے جو گلی سنسان نکل رہی تھی
    امینٓ کا عورت ذات پر بھروسہ ہی نا رہا
    جس کسی کو آزمایا بےایمان نکل رہی تھی
    تاریخ گواہ ہے کفر پر ہیبت تاری ہوگئی تھی
    جب بنت علی سوئے میدان نکل رہی تھی
    وہ جن کو میں نے سخن کرنا سکھایا تھا
    کل انکی میرے سامنے زبان نکل رہی تھی
    امینٓ کتنی یادگار تھی وہ ساعتیں جب
    عمر کیلئے تعریف شایانِ شان نکل رہی تھی
    ©nallatareen